Search This Blog

Translate

02 July 2026

وائی ٹو کے (Y2K) بگ: وہ خوف جس نے دنیا کو ہلا دیا، مگر تباہی کیوں نہ آئی؟

کیا دنیا واقعی تباہی کے دہانے پر کھڑی تھی؟

Illustration of the Y2K Bug (Millennium Bug) featuring a retro computer, Year 2000 warning, midnight countdown, and global technology imagery representing worldwide concerns over computer system failures.


1999 کے آخری مہینوں تک ایک حقیقت سب پر واضح ہو چکی تھی۔ مسئلہ کسی ایک کمپیوٹر، ایک کمپنی یا ایک ملک کا نہیں تھا۔ گزشتہ کئی دہائیوں میں دنیا کی معیشت، بینکاری، فضائی سفر، مواصلات، صنعت، صحت اور حکومتی ادارے بڑی حد تک کمپیوٹرائزڈ ہو چکے تھے۔ ان تمام شعبوں میں ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں ایسے سافٹ ویئر استعمال ہو رہے تھے جن کی بنیاد برسوں پہلے رکھی گئی تھی۔

اسی دوران دنیا بھر کے اداروں نے اپنے نظاموں کا ازسرِنو جائزہ لینا شروع کیا۔ ہر اس پروگرام کی نشاندہی کی گئی جس میں سال کو دو ہندسوں میں محفوظ کیا گیا تھا۔ اس کے بعد ایک طویل اور صبر آزما مرحلہ شروع ہوا۔ پروگراموں میں تبدیلیاں کی گئیں، انہیں بار بار آزمایا گیا، فرضی طور پر کمپیوٹر کی تاریخ سال 2000 پر لے جا کر نتائج دیکھے گئے اور پھر خامیوں کو دور کیا گیا۔

یہ محض کمپیوٹر پروگرام تبدیل کرنے کا کام نہیں تھا۔

اگر کسی بینک نے اپنے نظام میں معمولی سی غلطی کر دی ہوتی تو لاکھوں صارفین کے کھاتوں کا حساب متاثر ہو سکتا تھا۔ اگر کسی فضائی کمپنی نے اپنے سسٹم کو درست طریقے سے نہ آزمایا ہوتا تو پروازوں کے شیڈول اور جہازوں کی دیکھ بھال سے متعلق ریکارڈ میں مسائل پیدا ہو سکتے تھے۔ اگر کسی اسپتال کا سافٹ ویئر تاریخ کو غلط سمجھتا تو مریضوں کی رپورٹس، ادویات کے شیڈول یا طبی ریکارڈ میں خرابی آ سکتی تھی۔

اسی لیے ہر تبدیلی کے بعد صرف پروگرام کو نہیں بلکہ پورے نظام کو دوبارہ جانچا جاتا تھا۔

دنیا بھر میں ہزاروں ٹیمیں ایک ہی مقصد کے لیے کام کر رہی تھیں۔

یہ مقصد تھا کہ یکم جنوری 2000 کی صبح عام لوگوں کو یہ احساس تک نہ ہو کہ پس منظر میں کتنی بڑی جنگ لڑی جا چکی ہے۔

خاموش ہیرو

اس مہم کا ایک دلچسپ پہلو یہ تھا کہ اچانک وہ پروگرامرز دوبارہ اہم ہو گئے جنہیں برسوں پہلے ریٹائرمنٹ کے بعد فراموش کر دیا گیا تھا۔

بینکوں، بیمہ کمپنیوں اور سرکاری اداروں کے بہت سے نظام پرانی پروگرامنگ زبان COBOL پر چل رہے تھے۔ نئی نسل کے انجینئر جدید زبانوں میں مہارت رکھتے تھے، مگر ان پرانے نظاموں کو سمجھنے والے افراد کی تعداد بہت کم رہ گئی تھی۔

چنانچہ کئی اداروں نے ریٹائرڈ ماہرین سے دوبارہ رابطہ کیا۔

کسی نے مشیر کے طور پر خدمات انجام دیں، کسی نے پرانے کوڈ کی وضاحت کی اور کسی نے نوجوان انجینئروں کو بتایا کہ برسوں پہلے لکھے گئے پروگرام کس منطق کے تحت کام کرتے ہیں۔

یہ ٹیکنالوجی کی دنیا کا ایک منفرد منظر تھا۔

جہاں عام طور پر نئی مہارتوں کی قدر کی جاتی ہے، وہاں اچانک پرانے تجربے کی اہمیت سب سے زیادہ ہو گئی۔

اربوں ڈالر کا منصوبہ

Y2K کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے دنیا بھر میں تقریباً 300 سے 500 ارب امریکی ڈالر خرچ کیے گئے۔ یہ رقم صرف نئے کمپیوٹر خریدنے پر نہیں بلکہ پرانے نظاموں کی جانچ، سافٹ ویئر میں تبدیلی، نئے آلات، تربیت، مشاورت، اضافی عملے اور ہنگامی منصوبوں پر بھی صرف ہوئی۔

آج یہ رقم بہت بڑی محسوس ہوتی ہے، لیکن اگر اس کا موازنہ عالمی معیشت کے ممکنہ نقصان سے کیا جائے تو بہت سے ماہرین کے نزدیک یہ ایک ضروری سرمایہ کاری تھی۔

یہ شاید تاریخ کا پہلا موقع تھا جب دنیا کے مختلف ممالک، ہزاروں کمپنیاں اور لاکھوں پروگرامرز ایک ہی تکنیکی مسئلے کے خلاف بیک وقت کام کر رہے تھے۔

وہ رات جس کے بعد سب کچھ معمول کے مطابق رہا

آخرکار وہ لمحہ بھی آ پہنچا۔

دنیا کے مختلف ممالک اپنی اپنی مقامی وقت کے مطابق نئے ہزار سال میں داخل ہونے لگے۔ سب سے پہلے بحرالکاہل کے جزائر، پھر نیوزی لینڈ، آسٹریلیا، جاپان، ایشیا، یورپ اور آخر میں امریکہ۔

ہر نئے ٹائم زون کے ساتھ دنیا بھر کے کنٹرول رومز میں موجود انجینئرز کی نظریں اسکرینوں پر جمی رہیں۔

پہلی اطلاعات آئیں۔

سب کچھ معمول کے مطابق ہے۔

پھر دوسری۔

پھر تیسری۔

گھنٹے گزرتے گئے اور وہ تباہی، جس کے بارے میں کئی ہفتوں سے قیاس آرائیاں ہو رہی تھیں، کہیں دکھائی نہ دی۔

اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں تھا کہ کوئی مسئلہ پیدا ہی نہیں ہوا۔

چند مقامات پر محدود نوعیت کی خرابیاں ضرور سامنے آئیں۔

امریکہ میں ایک جاسوسی سیٹلائٹ کا زمینی نظام عارضی طور پر متاثر ہوا۔ برطانیہ کے ایک اسپتال میں حاملہ خواتین کی عمر کے حساب میں خرابی پیدا ہوئی جس کے باعث بعض طبی جائزوں پر اثر پڑا۔ چند جگہوں پر ٹکٹ جاری کرنے والی مشینیں یا تاریخ پر انحصار کرنے والے سسٹمز نے غلط نتائج دیے۔

لیکن یہ تمام مسائل مقامی نوعیت کے تھے۔

ان میں سے کوئی بھی عالمی سطح پر تباہ کن بحران میں تبدیل نہیں ہوا۔

پھر لوگوں نے کیوں کہا کہ Y2K ایک دھوکہ تھا؟

چند ہفتے بعد دنیا بھر میں ایک نئی بحث شروع ہو گئی۔

لوگوں نے کہا کہ اگر کچھ نہیں ہوا تو اتنی بھاگ دوڑ کیوں کی گئی؟ کیا پوری دنیا کو بلاوجہ خوفزدہ کیا گیا تھا؟

یہیں سے Y2K کی سب سے بڑی غلط فہمی نے جنم لیا۔

لوگوں نے نتیجہ تو دیکھا، مگر اس کے پیچھے برسوں کی محنت کو نظر انداز کر دیا۔

اس کیفیت کو آج کئی ماہرین Preparedness Paradox یا تیاری کا تضاد کہتے ہیں۔

یعنی جب کسی ممکنہ بحران سے بروقت نمٹ لیا جائے تو بعد میں بہت سے لوگ یہی سمجھتے ہیں کہ خطرہ تو سرے سے موجود ہی نہیں تھا۔

فرض کریں کسی شہر میں شدید بارشوں کے خطرے کے پیشِ نظر مضبوط بند تعمیر کر دیا جائے۔ بارش ہو، دریا میں طغیانی آئے، مگر شہر محفوظ رہے۔ اگر بعد میں کوئی یہ کہے کہ چونکہ سیلاب آیا ہی نہیں، اس لیے بند بنانے کی ضرورت نہیں تھی، تو یہ حقیقت کا صرف ایک رخ دیکھنے کے مترادف ہوگا۔

Y2K کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہوا۔

دنیا محفوظ رہی کیونکہ لاکھوں افراد نے برسوں تک خاموشی سے اپنا کام کیا۔

ان کی کامیابی ہی ان کی گمنامی بن گئی۔

آج کے لیے اس کہانی کا سبق

Y2K صرف ایک تاریخی واقعہ نہیں، بلکہ جدید ٹیکنالوجی کے بارے میں ایک اہم سبق بھی ہے۔

ہم جن نظاموں پر روزانہ انحصار کرتے ہیں، ان کے پیچھے برسوں پرانا کوڈ، پیچیدہ انفراسٹرکچر اور ہزاروں انجینئروں کی مسلسل محنت موجود ہوتی ہے۔ جب سب کچھ معمول کے مطابق چلتا رہتا ہے تو ہمیں ان لوگوں کا احساس بھی نہیں ہوتا جنہوں نے ممکنہ خرابیوں کو پہلے ہی روک دیا ہوتا ہے۔

اسی لیے Y2K کو بعض ماہرین انسانی تاریخ کی ناکام پیش گوئی نہیں، بلکہ کامیاب انجینئرنگ قرار دیتے ہیں۔

یہ وہ بحران تھا جو آیا ضرور، مگر دروازے تک پہنچنے سے پہلے ہی روک دیا گیا۔

اور شاید اسی لیے آج بھی بہت سے لوگ سمجھتے ہیں کہ وہ کبھی موجود ہی نہیں تھا۔

کیا تاریخ خود کو دوبارہ دہرا سکتی ہے؟

دلچسپ بات یہ ہے کہ کمپیوٹر سائنس دان مستقبل کے ایک اور ممکنہ مسئلے پر پہلے ہی کام کر رہے ہیں، جسے Year 2038 Problem کہا جاتا ہے۔ پرانے 32-bit کمپیوٹر نظام ایک خاص حد کے بعد وقت کا درست حساب رکھنے میں مشکل کا شکار ہو سکتے ہیں۔ اگرچہ جدید نظاموں کی بڑی تعداد اس مسئلے سے محفوظ ہے، لیکن دنیا میں اب بھی کئی پرانے آلات اور صنعتی نظام ایسے ہیں جو مستقبل میں توجہ طلب ہو سکتے ہیں۔

Y2K نے دنیا کو یہ سکھا دیا کہ ٹیکنالوجی میں چھوٹی نظر آنے والی خامیاں بھی بڑے نتائج پیدا کر سکتی ہیں، بشرطیکہ انہیں بروقت نظر انداز کر دیا جائے۔

شاید اسی لیے دانش مند معاشرے مسائل کا انتظار نہیں کرتے۔

وہ انہیں وقت آنے سے پہلے حل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

اختتامیہ

Y2K کی کہانی خوف کی نہیں، ذمہ داری کی کہانی ہے۔

یہ ہمیں یاد دلاتی ہے کہ ترقی صرف نئی ٹیکنالوجی ایجاد کرنے سے نہیں ہوتی، بلکہ پرانے نظاموں کو محفوظ، قابلِ اعتماد اور مستقبل کے لیے تیار رکھنے سے بھی ہوتی ہے۔

اگر یکم جنوری 2000 کی صبح دنیا معمول کے مطابق جاگی، تو یہ محض خوش قسمتی نہیں تھی۔

یہ لاکھوں انجینئروں، پروگرامرز، منتظمین اور ماہرین کی برسوں پر محیط محنت کا نتیجہ تھا، جنہوں نے خاموشی سے ایک ممکنہ بحران کو تاریخ کا حصہ بننے سے پہلے ہی شکست دے دی۔

شاید یہی Y2K کی اصل میراث ہے۔

08 May 2020

کرونا وائرس کی بیماری (کوویڈ-19) اور اسکے لئے بننے والی نئی ویکسین

کرونا وائرس (کوویڈ-19) اور اس کی لیے بننے والی نئی ویکسین کے بارے لوگ جسجتجو میں لگے ہوئے اسلئے پہلے وائرس اور ویکسین کے بارے معلومات جاننا ضروری ہیں
ہر وائرس کے اردگرد پروٹین (چربی) کی جھلی ہوتی جو اسے تحفظ دیتی اور انسانی و حیوانات کے سیل cell میں گھنسے میں مددگار ثابت ہوتی صابن میں موجود کیمیکل سے وہ پروٹین تحلیل ہوجاتا جس کے بعد وائرس کا ڈیفنس نہیں رہتا نا وہ کسی cell میں گھس سکتا اور جلدی ختم ہوجاتا
ویکسین بنانا بھی آسان کام نہیں یہ کسی حکیم کے کُشتے کے جیسا نہیں کہ مرکبات مکس کرکے کھلا دی جائے یہ ایک طویل سائنسی تحقیقی عمل ہوتا جو کئی مراحل کے بعد یہ انسانوں پہ استعمال ہوتی ہے

چیچک یا خسرہ کی بیماری کی ویکسین 28سال کی محنت کے بعد تیار ہوئی تھی

31 March 2020

ایران میں کرونا کے پھیلاؤ اور تباہی کا ذمہ دار جذباتی مذہبی طبقہ بنا

رہبر آیۃ اللہ خامنائی، مشہد و قم کے علماء اور سپاہِ پاسدارانِ انقلاب کی ہٹ دھرمی نے ایران کو تباہی کے کنارے پہنچایا
پاکستان میں کرونا کے پھیلنے کا سبب مشہد و قم کے زائرین اور حکومتی نا اہلی بنی ایران میں سب سے طاقتور سیاسی اور سماجی طبقہ شیعہ علماء، آیت اللہ اور ان کے مفتیان ہیں. ولایتِ فقیہہ کے تصور کے تحت رہبر آیت اللہ خامنائی ایران کی سب سے طاقتور شخصیت ہیں. صدر اور پارلیمینٹ بھی ان کے تابع ہوتی ہے. پارلیمینٹ کے زیادہ تر ممبر بھی مذہبی طبقہ سے ہی تعلق رکھتے ہیں
چین میں جب کرونا کی وبا پھیلی. تو ساری دنیا نے جلد یا بدیر چین سے فضائی اور زمینی رابطے منقطع کر دیے. لیکن "سپاہِ پاسدارانِ انقلاب" کی ہوائی کمپنی "ماہان ایئر" نے چین سے پروازیں جاری رکھیں. اور مسافروں کو چین سے ایران اور ایران سے باقی ممالک کو منتقلی جاری رکھی. بلکہ باقی دنیا میں بھی وائرس کی منتقلی میں اہم حصہ ڈالا.

ایرانی فوج جتنی ہی طاقتور "سپاہِ پاسدارانِ انقلاب" ہے. جو ڈائریکٹ رہبر کے زیرِ کنٹرول ہے. اور انتہائی طاقتور مذہبی فورس ہے. خود رہبر جناب آیت اللہ خامنائی مدرسے کے فارغ التحصیل ہیں. اور سائنسی تحقیقات و علوم سے زیادہ آشنا نہیں ہیں.

26 March 2020

کرونا وائرس امریکہ, چین اور فلم

جس جس کو موقع ملے لازمی دیکھیں عام فلم کی طرح نہیں غور سے دیکھیں disinformation اتنی پھیلائی جارہی کہ ہمت جواب دے جاتیسنی سنائی باتوں (بغیر لکھاری کے نام والے مضامین خبریں) نا پھیلائیں

آپ میں سے ہر شخص پڑھا لکھا اگر تحقیق کرے تو پتہ چلا گھروں میں ہونے والا عام زکام بھی اسی طرح پھیلتا جس طرح کرونا وائرس COVD19 پھیل رہا بالکل اسی طرح اس فلم میں ایک نئی بیماری کے پھیلاؤ کو دکھایا گیا ہے جو مافوق الفطرت بات نہیں1918 میں پہلی جنگ عظیم کے خاتمے کے بعد اسی طرح کی ایک بیماری سپینش فلو سے اگلے دو سال (1918-1920) میں 2 کروڑ سے 5 کروڑ لوگوں کی اموات ہوئیں اور 50 کروڑ لوگ بیمار ہوئے جو دنیا کی آبادی کا 1/4 حصہ تھے

19 March 2020

جاپانی کمپنی کی تیار کردہ دوا سے کرونا کا علاج ممکن؟

جاپانی کمپنی کی تیار کردہ نزلہ کی دوا جب چین کے علاقے شِنظِن میں کرونا وائرس سے متاثرہ مریضوں پر آزمائی گئی  متعلقہ دوائی کے چار دن استعمال کے بعد ٹیسٹ میں ان مریضوں کی نسبت کلئیر قرار پائے جنہیں دوا نہیں دی گئی یہ دوا استعمال نا کرنے والے دیگر مریضوں کو صحت یاب ہونے میں گیارہ دن لگے
چین کے سائنس اینڈ ٹکنالوجی کی منسٹری کے نمائنڈے نے بتایا ہے کہ"فیوی پیراوئر" نامی دوائی جو کہ فیوجی فلم کے ذیلی ادارے کی تیار کردہ ہے اس دوائی نے ووہان اور شِنظِن کے 340 مریضوں پہ کلینیکل ٹرائل کے دوران حوصلہ افزاء نتائج دئیے ہیں اور دوائی استعمال کرنے والے مریضوں کی صحت یابی کے دنوں کا تناسب چار 4 دن رہا 

16 March 2020

کرونا وائرس فیکٹ چیک

کرونا وائرس کے حوالے سے کچھ فیکٹ ایسے ہیں جن کا جاننا ضروری ہے 

یوں تو کرونا وائرس کے بارے روز نئے انکشافات ہورہے ہیں مگر چند قابل قدر معلومات ایسی ہیں جو اس مسئلہ کو سمجھنے کیلئے ضروری ہیں
کرونا وائرس انفلوئنزا، کرونا کی تمام اقسام ، سوائن فلو وغیرہ سب رائبو وائریا سے تعلق رکھتے جو ایک ہی فائلم  ہے۔
اسی طرح MERS - middle east respiratory syndrome جو کہ کرونا وائرس ہی ہے اسکا آغاز سعودیہ سے ہوا تھا۔ جس کے مریضوں کی مرنے کی تعداد 34% تھی
جبکہ SARS - severe respiratory syndrome چین سے شروع ہوا تھا جس کے مریضوں میں اموات کی شرح 9% تھی

16 February 2020

ماہرِ نفسیات کی طرف سے عمران خان کی شخصیت کا جائزہ

یہاں ماہرِ نفسیات آر.اے شہزاد کی طرف سے عمران خان کی شخصیت کا مختصر جائزہ لیا گیا ہے 



07 February 2020

تحریکِ طالبان پاکستان کے سابقہ ترجمان کی سوشل میڈیا پر سمعی پیغام کی ویڈیو

چند دنوں سے تحریکِ طالبان پاکستان کے سابقہ ترجمان کی سوزل میڈیا پرسمعی پیغام کی ویڈیو شئیر کی جا رہی جس میں مذکورہ شخص کی طرف سے یہ دعوی کیا جارہا ہے کہ وہ پاکستان کے سیکیورٹی اداروں کی قید سے فرار ہونے میں کامیاب ہوا ہے


 اس دعوی سے جُڑی اہم معلومات

اس دعوی سے متعلق سمعی ویڈیو پیغام کو سب سے پہلے ایک ٹوئٹر اکاؤنٹ سے شئیر کیا گیا جو کہ جنوری 2020 میں بنایا گیا یہ توئٹر اکاؤنٹ لیاقت علی نامی فیس بک اکاؤنٹ جُڑا ہوا ہے جو کہ احسان اللہ احسان کا ہی اصل نام ہے یہ فیس بک اکاؤنٹ ستمبر 2016 میں بنایا گیا تھا حیرانی کی بات یہ ہے کہ فیس بک کا یہ اکاؤنٹ 2018/19 میں متحرک رہا اور اس اکاؤنٹ سے ہر مہینے پوسٹ ہوتی رہیں بعض دفعہ تو کئی کئی پوسٹ بھی ہوئیں جبکہ اس وقت اسکی کرنٹ لوکیشن اسلام آباد رہی یاد رہے یہ وہ وقت وہ عرصہ تھا جب احسان اللہ احسان پاکستانی اداروں کی تحویل میں تھا

06 February 2020

زندگی کو زہر آلود کرنے والے تعلقات سے سیکھنے کی باتیں

جب بھی آپ کسی ایسے تعلق میں خود کو جوڑتے ہیں جو آپ کی زندگی کو زہرآلود بنانا شروع کردے تو پہلی بات جو ذہن نشین کرنی چاہئے کہ یہ آپ کا اپنا فیصلہ ہوتا کہ آپ اس زہر آلود تعلق کو قائم رکھنا چاہتے ہیں یا اس کو زندگی کا ایک برا باب سمجھ کر بند کرنا چاہتے ہیں


زندگی کو زہر آلود کرنے والے تعلق دوبارہ بھی سامنے آسکتے ہیں یہ آپ پر منحصر ہے کہ اس کو پہچانے اور خود کو پہلے کی طرح ایسی کسی سرگرمی سے بچا کر رکھیں جو بعد میں تکلیف کا باعث بنے.

31 January 2020

کرونا وائرس کی وبا اور سوشل میڈیا کی چہ مگوئیاں

جب سے چین میں کرونا وائرس کی وبا 2019-nCoV نے سر اٹھایا ہے عوام الناس میں اس کے بارے میں مختلف قسم کی چہ مگوئیاں ہورہی ہیں ایسی باتیں سامنے آ رہی ہیں جن کا نا کوئی سر ہے نا پیر ہے بلاتفریق جنس و عمر سب اپنی سمجھ بوجھ کے مطابق کرونا وائرس کی وبا کے بارے میں سنی سنائی باتوں پہ اپنی رائے قائم کر رہے اور افواہوں کو آگے پھیلائے جارہے ہیں


اسی حوالے سے بعض ایسے نابغہ روزگار بھی ہیں جنھوں نے نامعلوم کہاں سے یہ خبر نکال لی ہے کہ کرونا وائرس کی وبا سے دن میں پانچ مرتبہ وضو کرنا ہی کا علاج ہے جب ایسی پوسٹوں کو پھیلانے والوں سے ان کی خبر کے ذرائع مانگے جاتے یا ان سے کہا جاتا کونسی لیبارٹری نے اس رپورٹ کی تصدیق کی ہے تو ان کے پاس کوئی جواب نہیں ہوتا کچھ بعید نہیں کہ چند دنوں میں کرونا وائرس کی وبا سے بچنے کیلئے دم اور تعویز دھاگے کے دعوے دار عاملین بھی مارکیٹ میں سامنے آ جائیں گے.

26 January 2020

Railway Station and Union Council Chhab

Chhab - چھب

(Village & Union Council) 
Chhab railway station platform exit toward North. Railway station name board is placed and an electric pols is also visible
North View Towards Attock City & Rawalpindi and Khyber Pakhtunkhwa

Chhab is Union Council of Tehsil Jand & District Attock. Which is situated in South West of Potohar Plateau. Weather of Chhab area is mostly dry with moderate to low rain except in Moon Soon Season. Therefore Chhab area has an arid agriculture system, no irrigation system due to the terrain. Moreover wheat is the one crop that is usually harvested. In Summer day time temperature got sweltering hot with the high thirties from May to August. While in winter weather remain chilling cold after dusk from December to February.

25 January 2020

مقبول شخصیات نے یہاں سے اسپیشلائزیشن حاصل کی

آج صبح یہ تصویر نظر سے گزری تو پہلا خیال ذہن میں یہ آیا کہ تصویر میں بورڈ پر درجہ دونوں موبائل نمبرز پر میسج کروں اور کال کرکے جاننے کی کوشش کروں یہ کیا ماجرہ ہے


ایک بات جو میرے ذہن میں دلیل کے طور پر آ رہی تھی کہ شاید یہ کسی مقامی زبان کا لفظ ہے جس کو رومن انگلش میں لکھنے کی کوشش کی گئی لکھوانے والے نے اس کے مطلب پر سہواً غور نہیں کیا لیکن ہر انسانی دماغ سامنے نظر آنی والی کسی بھی شے اپنے محدود علم کے مطابق ہی پرکھتا ہے اسی لئے اس کا وہ مطلب نکل رہا جو ہمیں سجھائی دے رہا.

24 January 2020

چین کے شہر ووہان میں کرونا وائرس کی وبا شدت اختیار کر گئی

Crowed on walkway with mask covered face
چین ان دنوں سانس کی نالی اور پھپھڑوں کو متاثر کرنے والی خطرناک وبا کرونا وائرس کی زد میں ہے چین کے مختلف علاقوں میں کرونا وائرس سے متاثرہ افراد سامنے آرہے ہیں جن میں ہانگ کانگ اور مکاؤ کے جزیرے بھی شامل ہیں جبکہ جاپان، جنوبی کوریا، تائیوان، ریاست ہائے متحدا امریکہ، تھائی لینڈ، سنگاپور اور ویت نام میں بھی کیس رپورٹ ہونے کی اطلاعات ہیں دنیا کے کئی بڑے ہوائی اڈوں پہ آنے والے مسافروں کی سکریننگ کے اقدامات کئے گئے ہیں

21 January 2020

پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ اورعلاقائی اخبارات کا کوٹہ

علاقائی اخبارات کے کوٹہ سے اشتہارات حاصل کا جو طریقہ پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ PID میں شروع کیا گیا ہے اس سے چھوٹے اور علاقائی اخبارات کی ساکھ شدید متاثر ہورہی ہے


ہم اکثر سنتے تھے کہ صحافی اپنا قلم بیچتے ہیں تو حیرت ہوتی تھی یہ کیسی بات کہی جارہی مگر اب اپ آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں کہ علاقائی اخبارات کے نمائندوں کی طرف سے پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ کے 25% کوٹے میں سے اپنے لیے زیادہ سے زیادہ اشتہارات لینے کیلئے کیسے منتیں ترلے کئے جارہے ہیں آجکل یہ بات زبان زدِ عام ہے کہ پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ کے سرکاری افسران علاقائی اخباروں کے نمائندوں کو زیادہ اور بڑے اشتہارات کا لالچ دے کر مجبور کر رہے ہیں کہ وہ موجود حکمرانوں کی تعریفوں کے پُل باندھے تو انھیں اشتہارات ملتے جائیں گے

12 January 2020

ایران میں مسافربردار طیارے کو نشانہ بنانے کی غلطی کے سرکاری اعتراف کے بعد احتجاجی مظاہرے

ایرانی پاسدارنِ انقلاب کے یوکرین کے مسافر بردرا طیار کو مار گرانے کی غلطی کے اعتراف کے بعد تہران میں لوگ سڑکوں پر نکل آئے ہیں جو اپنے ملک کی حکومت اور سپریم لیڈر علی خامنائی کے خلاف  قاتل قاتل کی نعرے بازی کر رہے.

بعض ویڈیوز میں دیکھا جاسکتا ہے کہ ایرانی پولیس کی بھاری نفری ایک ٹیکنکل انسٹیٹیوٹ کے دروازے پر تعینات ہے تاکہ طلبا باہر آ کر احتجاج میں حصہ نا لے سکیں جبکہ بعض جگہوں پر احتجاجی مظاہریں کے خلاف آنسو گیس کا استعمال بھی دیکھنے میں آیا ہے.

10 January 2020

جنرل قاسم سلیمانی پر امریکی ڈرون حملے کی مخبری کہاں سے ہوئی؟

رائٹرز (نیوز ایجنسی) کے مطابق جنرل قاسم سلیمانی اپنے چار محافظوں کے ہمراہ رات کے وقت سیاہ شیشے والی گاڑی میں دمشق کے ایرپورٹ سے نجی ائیرلائن أجنحة الشام للطيران Cham Wings Airlines کے‎ ائیربس A320 میں سوار ہوئے جو اس وقت بغداد جانے کے لیے تیار کھڑا تھا جنرل قاسم سلیمانی سمیت ان کے کسی محافظ کا نام جہاز کے مسافروں کی لسٹ میں بھی شامل نہیں تھا جنرل قاسم سلیمانی کا مسافر بردار جہاز کا یہ سفر  آخری ثابت ہوا جس کے فوراً بعد وہ امریکی ڈروں حملے محافظوں سمیت ہلاک ہوگئے اُنہوں نے پرائیویٹ جہاز میں سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر سفر کرنے سے گریز کیا تھا.

جنوری 2020 کی 3 تاریخ کو یہ جہاز بغداد ائیرپورٹ پر 12:30 پر لینڈ ہوا جنرل قاسم سلیمانی اپنے محافظوں کے ہمراہ کسٹم کو بائی پاس کرتے ہوئے جہاز سے سیڑھی کے ذریعے نیچے اترے جہاں ابو مہدی مہندس ڈپٹی کمانڈر ( الحشد الشعبي ‎ al-Ḥashd ash-Shaʿbī) جو کہ (People's Mobilization Committee (PMC کے نام سے بھی جانی جاتی ہے ان کے استقبال کیلئے پہلے سے موجود تھے وہ دونوں قریب کھڑی ایک ایس.یو.وی میں بیٹھے جبکہ ان کے ساتھ آنے والے محافظین دوسرے ایس.یو.وی میں بیٹھ ےکر ائیرپورٹ سے نکلنی والی بڑی شاہراہ کی جانب روانہ ہوگئے

07 January 2020

امریکہ ایران کشیدگی حالات و واقعات

امریکہ ایران حالیہ کشیدگی کے تانے بانے ماضی کے کئی واقعات سے وابستہ ہیں ایران پر لگنے والی پابندیوں کے دوران سابق امریکی صدر باراک اوبامہ (جن پہ امریکی صدارتی الیکشن کے دوران مسلمان فیملی سے تعلق کا الزام لگا اس کا تفصیل سے مطالعہ کرنے سے پتہ چلتا کہ باراک اوبامہ کے آباؤ اجداد میں جو اسلام تھا وہ ایرانی مسلک کے قریب ترین والا تھا) نے اپنے دور اقتدار میں ایران کو اتنی سہولیات فراہم کیں کہ وہ اپنی سرحدوں سے باہر جنگ زدہ عراق, شامی صدر بشارالاسد کی حمایت, یمن کے حوثی باغیوں کی مسلح مدد اور بحرین سمیت دیگر عرب ممالک میں اپنے مسلک کے قریب ترین لوگوں کے ذریعے وہاں مسلح جدوجہد شروع کرانے کے قابل ہوا جسکے بعد ان ممالک میں حالات کی خرابی قیمتی انسانی جانوں کے ضیائع کے ساتھ لاکھوں افراد کو اپنا گھر بار چھوڑنے اور دربدر ہونے پر مجبور ہونا پڑا بارک ابامہ کے دور اقتدار میں ہی امریکہ کی ایران کے ساتھ نیوکلئیر ڈیل ممکن ہوئی جسے امریکی اسٹیبلشمنٹ نے کبھی دل سے تسلیم نہیں کیا اب اس ڈیل سے نکلنے کی باتیں ہورہی ہیں.

25 January 2019

عمران خان اور مبالغہ آمیز بیانات ~ ایک ذہنی بیماری

"پچانوے اور بانوے کے بیچ میں سات سالوں میں شریف خاندان نے چھ ہزار ارب چھ ہزار کروڑ ۔قرضہ لیا"

عمران خان اس طرح کے اعدادوشمار بہت دفعہ دے چکا یہ عادات ایک بہت پیچیدہ ذہنی حالت کو بیان کرتی 
آپ اسے سلپ آف ٹنگ بھی کہہ سکتے مگر نیازی ہمیشہ ایسے فگرز دیتا جب کوئی چیز مسلسل ہو تو ماہر نفیسات اسے سنجیدگی سے لیتے

اسی کی بنیاد پر نفسیاتی تجزیہ کرتے خاص کر اگر وہ لیڈر ہو اسی سے جڑی دوسری عادت جو نیازی کی وہ سب کو کرپٹ کہتا اور کرپشن کو بڑھا چڑھا کر پیش کرتا

 Cornell Universityمیں ایک بہت دلچسپ سوشل تجربہ ہوا۔‏ طالبعلموں کے دو گروہوں کو ایک شخص کی سٹوری سنائی گئی کہ *وہ ہوٹل سے کھانا کھا کر بغیر بل دئیے چلا گیا،* مگر دونوں گروپ کو الگ الگ وجہ بتائی گئی.

24 September 2018

پراپیگنڈا اور ہمارا معاشرہ

*انسانی دماغ ہر اس چیز یا بات کا اثر آسانی سے قبول کرتا جسکی اسے سمجھ نا ہو یا جسکا حل تلاش کرنے میں اسے دشواری کا سامنا کرنا پڑتا ہو*

آج کے حالات دیکھتے ہوئے کہا جاتا میڈیا وار اور پراپیگنڈا ملک کو تباہ کرنے کے لیے شروع کیا گیا ہے مگر یہ نہیں بتایا جاتا کہ اصل کہانی کیا ہے مشرف کی حکومت کے خاتمے کے ساتھ ہی سامراجی قوتوں کو پاکستانی سے معاملات میں دشواری کا سامنا کرنا پڑا اسی وقت سے گیم پلان کیا گیا نئی حکومت کو وہ تمام فنڈز جو مشرف حکومت کے دوران صحت اور سوشل سیکٹرز میں ملتے رہے وہ فنڈنگ بند کردی گئی جبکہ معاشی زبوں حالی عالمی مارکیٹ میں بھی مواقع کم کرنے میں ایک اہم وجہ بنی ایسے ہی وقت مین ممبئی حملوں نے پاکستان کی نا صرف بدنامی کا باعث بنے بلکے نئی حکومت کو بھی گٹھنے ٹیکھنے پر مجبور کیا گیا.

05 August 2018

ھوائی چھوڑنا


اسلام آباد کی ایک معرورف اشتہاراتی کمپنی میں کام کرتے ہوئے اکثر آرٹ ڈیپارٹمنٹ کے دوستوں کے ساتھ گپ شپ کرتے ہوئے موضوع اکثر کرکٹ کی طرف نکل جاتا تھا چونکہ مارکیٹنگ اور آرٹ ڈیپارٹمنٹ کی علیحدہ علیحدہ ٹیمیں تھیں جنکے درمیان میچز ہوتے رہتے تھے اسلئیے باتوں باتوں میں ایک دوسرے کو زَچ کرنے کے لیے بڑھ چڑھ کر ایسی بات کردی جاتی تھی جو اثر بھی رکھتی ہو اور مخالفین لاجواب بھی ہو جائیں. یہ ایک نا رکنے والا سلسلہ تھا جو مکمل طور پہ مزاح تک ہی رہتا تھا اسلئیے اس کی کوئی حد نہیں تھی  اسکے باوجود کئی بار ایسا موقع بھی آیا جب کسی دوست نے کوئی ایسا بڑا دعویٰ کردیا جس کا لاجک/منطق عقل و فہم سے کہیں دُور دُور تک کا بھی کوئی واسطہ نہیں ہوتا تھا ایسے موقع پر ہمارا ایک دوست بات ختم کرنے کے لیے بے اختیار کہہ دیتا تھا

"بس کرو ھُن اِس توں وَڈی جھیڑا چَھڈے او بُوں وڈا ر√می ہووے"
(اب اس سے بڑا دعویٰ کوئی کرے تو وہ بہت بڑا خا*بیس ہی ہو)
یہ فقرہ اس ساری بحث و مُباحثے کا فل سٹاپ ہوتا تھا اور اسکے یہ الفاظ اس ساری محفل کا نچھوڑ ہوتے تھے اس کے بعد دوستوں میں سے کسی نے کبھی مزید بات کرنے کی کوشش نہیں کی تھی.

Reader's Choice

Followers