ہم اکثر سنتے تھے کہ صحافی اپنا قلم بیچتے ہیں تو حیرت ہوتی تھی یہ کیسی بات کہی جارہی مگر اب اپ آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں کہ علاقائی اخبارات کے نمائندوں کی طرف سے پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ کے 25% کوٹے میں سے اپنے لیے زیادہ سے زیادہ اشتہارات لینے کیلئے کیسے منتیں ترلے کئے جارہے ہیں آجکل یہ بات زبان زدِ عام ہے کہ پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ کے سرکاری افسران علاقائی اخباروں کے نمائندوں کو زیادہ اور بڑے اشتہارات کا لالچ دے کر مجبور کر رہے ہیں کہ وہ موجود حکمرانوں کی تعریفوں کے پُل باندھے تو انھیں اشتہارات ملتے جائیں گے
